حکمرانوں نے انتخابات سے قبل غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بلند وباندھ دعوے کیے تھے تاہم نہیں حکومت نے ان مسائل کے تدارک کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے عام آدمی بدستور مسائل کی زد میں ہے اور اس کے مشکلات اور غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے کراچی اور سندھ سمیت پاکستان کے کئی علاقوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں آج کے اس پرفتن دور میں غریب غربت کی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے اور امیر. امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے.
بہت سارے بچوں کے والدین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ان کو کسی امیر کے در پر کام کرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں. جہاں پر ان جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتی کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے .غریب روزاول سے ہی غلام تھا اور غلام رہے گا اسی غریب کو بازاروں میں سرعام نیلام کیا جاتا رہاہے او ر اب تک غلامی کا طوق اس کے گلے سے نہیں اترا یہی غریب بے چارہ روز اول سے ہی ظلم وستم کی چکی میں پیستا چلا آرہا ہےلیکن آج تک وہ آسودہ حال نہ ہوسکا سیاستدانوں کے منافقانہ نعروں کا سہارا لے کر اس نے اپنی زندگی بیتا دی سال بھر چھپاتا تھا وہ غریب اپنی بھوک کو آج وہ بھی فخر سے کہے گا میں روزے سے ہوں


No comments:
Post a Comment